نئی دہلی،29؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)وزیردفاع کے علاقے میں حکومت کی جانب سے آر اینڈ ڈی پر کافی توجہ نہیں دیئے جانے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ حامد انصاری نے آج کہا کہ بھارت اپنی دفاعی ضروریات کا 60فیصد اب بھی درآمد کرتاہے اوراپنی مسلح افواج کے لیے طریقے کی ایک رائفل بھی تیار نہیں کر سکاہے۔حامدانصاری نے یہ تبصرہ ایسے وقت میں کیا ہے جب ملک میں ہی تیارایک رائفل بری فوج کی جانب سے کیے گئے فائرنگ ٹیسٹ میں’’بری طرح ناکام‘‘ہوگئی۔یہ رائفل سالوں پرانے اساس ماڈل کی جگہ نئی رائفلیں فوج کو مہیا کرانے کے مقصد سے تیار کی گئی تھی۔نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ بھارت اپنے جی ڈی پی (جی ڈی پی)کا محض 0.9فیصد سائنسی تحقیق پر خرچ کرتا ہے جبکہ چین اس شعبہ میں 2فیصد، جرمنی 2.8فیصداوراسرائیل 4.6فیصدخرچ کرتاہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں خالصتاََسائنسی مضامین میں پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈروں کی تعدادانتہائی کم ہے اور بھارت تیزی سے بدلتی اس دنیا میں کافی پیچھے ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ ایک کے بعدآئی متعدد حکومتوں نے اس پر توجہ کیوں نہیں دی۔انصاری نے کہاکہ R & Dمیں حکومت کی کوششیں ناکافی ہیں۔آزادی کے 70سال بعد بھی ہم نے اپنی دفاعی ضروریات کا 60فیصد درآمدکیا۔باورچی خانے کی ضروریات نہیں، دفاعی شعبہ کی ضروریات۔انہوں نے کہا کہ کچھ علاقوں میں ہم نے بہت اچھا کام کیاہے۔جوہری توانائی اور خلائی جیسے محکمہ اچھا کام کر رہے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ دیگر علاقوں میں ہم کافی پیچھے کیوں ہیں؟ اگر ہم ان سوالوں کا جواب ڈھونڈ سکتے ہیں تو ہم جان پائیں گے کہ ہمیں کس سمت میں جاناہے۔